لاہور میں سندس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بلڈ ڈونرز ڈے کے سلسلے میں تقریب میں شرکت کا موقع ملا جہاں چینی قونصلیٹ سن یان مہمان خصوصی تھے۔ سن یان نے رضاکارانہ خون عطیہ کرنے جیسے عظیم انسانی عمل کو انسانیت کی خدمت قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر سندس فاؤنڈیشن کے روحِ رواں، سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان انسان دوستی اور فلاحی تعاون کے جذبے کو سراہا۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ لاہور میں چین کے سفارتکار انسان دوست ثابت ہوئے ہیں اور سماجی بہبود کی اکثر تقریبات میں شرکت کرتے ہں۔ خصوصی طور پر سن یان کی کنواری اور انسانی بہبود کے منصوبوں میں ان کی دلچسپی اور سرپرستی قابل تعریف ہے۔ سن یان سندس فاؤنڈیشن کی تقریب میں شرکت کیلئے نواز شریف سنٹر آف اکیڈمک ایکسیلنس میں پہنچے تو میزبانوں نے انہیں بریفنگ دی۔ اس موقع پر چینی اتاشی وانگ سیتا اور قونصلر اتاشی لی ییننگ بھی موجود تھے اور صحافیوں اور دیگر مہمانوں سے بے تکلفی سے مل رہے تھے۔ سن یان کی تقریب میں شرکت اس بات کا عملی اظہار تھی کہ جدید سفارت کاری صرف سیاسی اور اقتصادی مفادات تک محدود نہیں بلکہ انسان دوستی، سماجی بہبود اور عوامی خدمت جیسے مشترکہ انسانی اقدار کو بھی فروغ دیتی ہے۔ سن یان متعدد مواقع پر یہ بات دہرا چکے ہیں کہ پاکستان اور چین کا تعلق وقتی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور مشترکہ مستقبل کی ایک مضبوط شراکت داری ہے۔ ان کے نزدیک پاک چین اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے روشن مستقبل کی علامت ہے، جبکہ عوامی روابط اس دوستی کی اصل روح ہیں۔ اگر ان کی موجودہ سرگرمیوں کا یہی تسلسل برقرار رہا تو بلاشبہ ان کی لاہور میں تعیناتی پاک چین تعلقات کے ایک ایسے دور کے طور پر یاد رکھی جائے گی جس میں سرکاری سفارت کاری کے ساتھ ساتھ عوامی اور انسانی سفارت کاری کو بھی نئی زندگی ملی۔ چین اور پاکستان کی دوستی کو اکثر “ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی” قرار دیا جاتا ہے، مگر سفارتی تعلقات کی اصل طاقت صرف سرکاری معاہدوں یا مشترکہ منصوبوں میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں ہوتی ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے عملی کردار ادا کرتے ہیں۔ لاہور میں عوامی جمہوریہ چین کے نئے قونصل جنرل سن یان بھی انہی سفارت کاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی یہ واضح کر دیا کہ ان کی ترجیح صرف سفارتی ملاقاتیں نہیں بلکہ عوام کے ساتھ براہِ راست تعلق استوار کرنا بھی ہے۔ مارچ 2026 میں لاہور میں تعیناتی اور 10 مارچ کو اسنادِ تقرری پیش کرنے کے بعد سن یان نے جس انداز میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا، وہ ایک متحرک اور فعال سفارت کار کی پہچان ہے۔ اگرچہ ان کی ابتدائی سفارتی زندگی کی تمام تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آئیں، تاہم چین کی وزارتِ خارجہ میں مختلف ذمہ داریاں نبھانے کا تجربہ انہیں ایک منجھے ہوئے سفارت کار کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔ ان کی تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان اور چین اپنی سفارتی دوستی کے پچھتر برس مکمل کر رہے تھے اور پاک چین اقتصادی راہداری کا دوسرا مرحلہ دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیحات میں شامل تھا۔ سن یان نے ابتدا ہی سے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دی جائے۔ ان کے نزدیک سیاسی اعتماد، اقتصادی تعاون، صنعتی ترقی، تجارتی روابط، تعلیمی تبادلے اور ثقافتی ہم آہنگی وہ ستون ہیں جن پر دونوں ممالک کی آئندہ نسلوں کے تعلقات استوار ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صرف سرکاری دفاتر تک خود کو محدود رکھنے کے بجائے کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں، جامعات، طلبہ اور سماجی اداروں سے بھی رابطے بڑھانے کو ترجیح دی۔ مختصر عرصے میں انہوں نے گورنر پنجاب، چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، محکمہ داخلہ، پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد صرف رسمی خیرسگالی نہیں بلکہ سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، سی پیک کے منصوبوں اور چینی شہریوں کی سلامتی جیسے اہم معاملات کو آگے بڑھانا تھا۔ انہوں نے بارہا اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پنجاب میں صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، برقی گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ تعلیم اور ثقافت کے میدان میں بھی ان کی دلچسپی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ سمیت مختلف اداروں میں ان کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عوامی سفارت کاری کو روایتی سفارت کاری جتنی ہی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ دوستی صرف حکومتوں کے درمیان نہیں بلکہ نوجوانوں، اساتذہ، طلبہ اور عام شہریوں کے درمیان بھی پروان چڑھنی چاہیے، کیونکہ مضبوط عوامی روابط ہی دیرپا بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد بنتے ہیں۔ سن یان نے صوبے میں مقیم چینی انجینئروں، ماہرین اور دیگر شہریوں کی سلامتی کو بھی اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور پاکستان کی جانب سے کیے گئے حفاظتی اقدامات کو سراہتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ان کی شخصیت کا ایک خوش آئند پہلو یہ بھی ہے کہ وہ صرف سرکاری تقریبات تک محدود نہیں رہے بلکہ سماجی خدمت کے کاموں میں بھی دلچسپی دکھائی۔