سحر شَعیل

اختلافِ رائے تحریر: سحر شَعیل (اوکاڑہ)

جس طرح جسم میں وٹامن اے، بی، سی اور ڈی کی کمی ہو جاتی ہے، اسی طرح آج ہمارے قومی وجود میں بھی کچھ کمیاں پائی جا رہی ہیں، جن میں سے ایک بڑی کمی یہ ہے:
“میں ہی ٹھیک ہوں، باقی سب غلط ہیں۔”
جی ہاں، گھر، گلی، محلے، شہر اور ملکی سطح پر دیکھ لیں، ہم دوسرے کی رائے کو ہوا میں اڑاتے نظر آتے ہیں۔ اپنی رائے دوسروں پر تھوپتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب ہماری بات سے اتفاق کریں۔ نسلِ نو میں تو اس کے ساتھ ساتھ یہ مرض بھی پایا جاتا ہے کہ دوسرے جو مرضی رائے دے دیں، ہم ٹھیک ہیں اور ہمیں کسی کی رائے یا مشورے کی نہ ضرورت ہے، نہ ہی پرواہ۔
انسان اللہ ربّ العزت کا شاہکار ہے اور اس کی خاصیت اس کی سوچ ہے۔ تمام نوعِ انسان فطرتاً ایک دوسرے سے الگ ہے، نہ صرف ظاہری طور پر بلکہ تخیل اور تفکر میں بھی ہم سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس لیے کسی دوسرے کی بات سے اختلاف ہونا ایک فطری عمل ہے۔ لفظ اختلاف کو ہم نے مخالفت یا دشمنی کے ساتھ منسوب کر دیا ہے، اس لیے اختلافِ رائے کرنے والے کو ہم اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں۔ اختلافِ رائے کو اختلافِ دل تصور کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے دلوں میں مخالف فریق کے لیے جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔ حالانکہ مثبت زاویے سے دیکھا جائے تو اختلافِ رائے کا مطلب مختلف ہونا، فکر اور اندازِ فکر میں تغیر ہونا ہے۔
دینی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو اسلام، چونکہ بہترین دین ہے، اس لیے یہ فطری اختلاف کو جگہ دیتا ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ لوگوں کی آرا، تخیلات اور سوچ مختلف ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جب علماء اور فقہاء نے دوسروں کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا اپنا موقف بیان کیا۔ اسلام میں اختلافِ رائے کا مقصد دین کے اصل حقائق تک رسائی ہے، اور یہی مثبت اختلافِ رائے علمی آسانیوں اور فکری وسعت کا باعث بنا۔
اختلافِ رائے وہ بنیادی اکائی ہے جس پر مہذب معاشرے کی تعمیر ہوتی ہے۔ تنوع معاشرے کو جمود سے بچاتا ہے اور نئے خیالات کو جنم دیتا ہے۔ وہ قومیں جو ایک دوسرے کے نظریات اور آرا کا احترام کرتی ہیں، زندہ رہتی ہیں۔ اختلافِ رائے دراصل مسائل کے مختلف حل سامنے لاتا ہے۔ یہاں ضروری امر یہ ہے کہ اختلافِ رائے کو ذاتی انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ دوسروں کی سوچ کا احترام کرتے ہوئے تنقید اور اختلاف کو بھی جگہ دی جائے۔ معاشرے کی خوب صورتی یہ نہیں کہ سب ایک جیسا سوچیں، بلکہ یہ ہے کہ ہر فرد اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنی رائے دے۔ اختلافِ رائے کو اگر ہم غلط انداز میں لیں گے تو تفرقہ، تعصب، تنگ نظری، خود پسندی اور جمود جیسی خامیاں معاشرے میں سرایت کر جائیں گی۔ اختلافِ رائے کے منفی اندازِ فکر سے رشتے کمزور ہوتے ہیں، ادارے غیر مؤثر ہوتے ہیں اور قوم کی اجتماعی قوت کمزور ہونے لگتی ہے۔
اختلافِ رائے کو اہمیت دینے سے معاشرے میں مثبت سوچیں پروان چڑھتی ہیں، مسائل کے مناسب حل ملتے ہیں اور باہمی ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ ملتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس وقت اختلافِ رائے کو اختلافِ ذات یا ذاتی عداوت سمجھا جا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ سے اتفاق نہ کرنے والا ہمارا دشمن ہے۔ یہی سوچ ہٹ دھرمی کو فروغ دے رہی ہے۔ خاندانی معاملہ ہو یا علمی، سیاسی امور پر بات ہو یا مسائل کا حل، ہم ہر بات میں اپنے آپ کو درست تصور کرتے ہیں، جبکہ یہ بات عقلی طور پر بھی ماننے کے قابل نہیں کہ کوئی شخص عقلِ کل کا مالک ہو اور ہمیشہ درست ہو۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود پسندی سے باہر آئیں اور دوسروں کی رائے کو مثبت اندازِ فکر کے ساتھ قبول کریں۔ جب ہم کسی کی بات سے اختلاف کریں تو لحاظ، مروت اور رکھ رکھاؤ کا خیال رکھیں۔ ہمارا مقصد صرف سامنے والے کی بات سے اختلاف ہونا چاہیے، نہ کہ اس کی شخصیت سے۔ اسی طرح اگر کوئی ہماری رائے سے اختلاف کرے تو اسے کشادہ دلی سے قبول کریں اور اپنی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ بحث اور اختلافِ رائے دراصل ہماری تہذیب کا امتحان ہوتے ہیں۔ اگر ہم والدین ہیں تو اپنے بچوں کو سکھائیں کہ جیسے ان کی رائے محترم ہے، ویسے ہی دوسروں کی رائے بھی محترم ہے، تاکہ وہ آگے چل کر ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کر سکیں جو ذہنی طور پر تندرست و توانا ہو۔
معاشرہ کبھی بھی صرف باتوں سے تبدیل نہیں ہوتا، عملی نمونہ بننا پڑتا ہے۔ آئیے، عہد کریں کہ ہم اپنے حصے کا کردار ضرور ادا کریں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مہذب معاشرہ چھوڑ کر جائیں گے۔