زم زم کا پانی

زم زم کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے؟

1971 میں ایک مصری ڈاکٹر نے یورپی پریس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ زم زم کا پانی پینے کے قابل نہیں، کیونکہ خانہ کعبہ کا علاقہ سطح سمندر سے نیچا ہے اور شہر کا گندا پانی نالیوں کے ذریعے کنویں میں شامل ہو جاتا ہے۔
یہ خبر جب اخبارات کے ذریعے پھیلی تو مسلمانوں کے دلوں میں بےچینی پیدا ہو گئی۔
یہ بات جب سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل تک پہنچی تو انہیں شدید غصہ آیا۔ ایک مسلمان بادشاہ کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ اسلام کے سب سے مقدس مقام کے پانی پر انگلی اٹھائی جائے۔ چنانچہ شاہ فیصل نے فوری طور پر وزارتِ زراعت و آبی وسائل کو حکم دیا کہ حقیقت جانچی جائے اور زمزم کے پانی کے نمونے یورپ کی معتبر لیبارٹریوں میں بھجوائے جائیں تاکہ سائنسی طور پر اس دعوے کو غلط ثابت کیا جا سکے۔
وزارت نے یہ اہم ذمہ داری جدہ کے پاور اینڈ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے سپرد کی، جہاں موئن الدین احمد نامی ایک انجینئر کام کرتے تھے، جن کا کام سمندری پانی کو کیمیائی طریقوں سے پینے کے قابل بنانا تھا۔ انہیں چنا گیا کہ وہ مکہ جا کر خود اس معمے کی تہہ تک پہنچیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود موئن الدین احمد کے مطابق، جب وہ اس سفر پر روانہ ہوئے تو انہیں یہ تک اندازہ نہیں تھا کہ زمزم کا کنواں دیکھنے میں کیسا ہوگا۔
جب وہ خانہ کعبہ پہنچے اور حکام کو اپنے دورے کا مقصد بتایا تو ایک شخص کو ان کی مدد کے لیے مقرر کیا گیا۔ کنویں کے قریب پہنچ کر انہیں حیرت ہوئی، کیونکہ جس کنویں سے صدیوں سے لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھائی جا رہی تھی، وہ دراصل ایک چھوٹے سے تالاب جیسا تھا، بمشکل اٹھارہ فٹ لمبا اور چودہ فٹ چوڑا۔ انہوں نے کنویں کی پیمائش کی اور اس شخص سے کہا کہ گہرائی معلوم کرنے کے لیے پانی میں اترے۔ وہ شخص نہا کر پانی میں اترا اور سیدھا کھڑا ہو گیا، پانی اس کے کندھوں تک آ رہا تھا، جبکہ اس کا قد پانچ فٹ آٹھ انچ تھا۔
اب اصل تلاش شروع ہوئی، وہ شخص کنویں کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کھڑا کھڑا چلتا رہا (سر پانی میں ڈبونے کی اجازت نہیں تھی) تاکہ کوئی پائپ یا سوراخ ڈھونڈ سکے جہاں سے پانی آ رہا ہو۔ مگر دیر تک تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا۔ موئن الدین احمد نے پھر ایک ترکیب سوچی، انہوں نے کنویں پر نصب بڑے پمپ سے تیزی سے پانی نکلوانا شروع کیا تاکہ سطح نیچے آئے اور پانی کے داخلے کی جگہ ظاہر ہو جائے۔ حیرت انگیز طور پر پہلی بار کچھ نظر نہ آیا۔
مگر انجینئر نے ہمت نہ ہاری، انہوں نے دوبارہ یہ عمل دہرایا، اس بار اس شخص کو ہدایت کی کہ ایک جگہ ساکت کھڑا رہے اور غور سے دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ شخص اچانک اپنے ہاتھ اٹھا کر خوشی سے چلایا، الحمدللہ، مل گیا، ریت میرے پاؤں تلے ناچ رہی ہے، پانی زمین کے اندر سے چھن چھن کر ابل رہا ہے۔ پھر وہ کنویں میں گھومتا رہا اور ہر جگہ یہی منظر دیکھنے کو ملا، پانی ہر طرف سے یکساں مقدار میں زمین کی تہہ سے رس رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ کنویں کی سطح ہمیشہ ایک ہی رہتی تھی۔
اپنا مشاہدہ مکمل کرنے کے بعد موئن الدین احمد نے پانی کے نمونے یورپی لیبارٹریوں کے لیے اکٹھے کیے۔ خانہ کعبہ سے نکلنے سے پہلے انہوں نے مکہ کے دیگر کنوؤں کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ سب کے سب خشک پڑے تھے، صرف زمزم ہی صدیوں سے مسلسل بہہ رہا تھا۔
جب یہ رپورٹ اور یورپی لیبارٹریوں کے نتائج شاہ فیصل کے سامنے پیش ہوئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ نتائج نے صاف ظاہر کیا کہ زمزم کا پانی نہ صرف مکمل طور پر پینے کے قابل ہے، بلکہ اس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار عام پانی سے کچھ زیادہ ہے، جو شاید تھکے ہارے حاجیوں کو تازگی بخشنے کی وجہ ہو۔ اس کے علاوہ اس میں فلورائیڈ کی موجودگی بھی پائی گئی جو جراثیم کش خاصیت رکھتا ہے۔ یوں مصری ڈاکٹر کا دعویٰ سراسر غلط ثابت ہوا، اور شاہ فیصل نے یورپی پریس میں اس کی باقاعدہ تردید شائع کروائی۔