کالم نگار

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی کامیاب داخلہ مہم تحریر: افراح بتول

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کو انڈر گریجوایٹ داخلوں کے موجودہ سیزن میں 19 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں جو اس ادارے کی مقبولیت پر دلیل ہے۔ یہ کہنا ہے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کا جو ٹاپ مینجمنٹ اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں۔ انہوں نے حاضرین کا حوصلہ بڑھایا کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کو خوش قسمتی سے بہترین افرادی قوت دستیاب ہے۔ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف بہت باصلاحیت اور محنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن شعبوں میں داخلے کی کم درخواستیں آئی ہیں ان شعبوں کی قیادت کو سائنسی بنیادوں پر اپنے ڈسپلن کی مارکیٹنگ کرنا ہوگی۔ وائس چانسلر نے کہا کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں رجسٹرار اور کنٹرولر گورنر پنجاب نے تعینات کر دئیے ہیں۔ یونیورسٹی کی دیگر سٹیچوری پوسٹین بھی جلد پر کی جائیں گی جس سے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی فعالیت میں اضافہ ہوگا۔ بلاشبہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اپنی منفرد شناخت کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی قیادت میں یونیورسٹی میں تعلیمی معیار، شفاف انتظامی نظام، بین الاقوامی روابط، صنعت سے اشتراک اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے مثبت نتائج نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ مستقل رجسٹرار میاں محمود علی اور کنٹرولر امتحانات افشین کاشف کی تقرری کے بعد ان کے اعزاز میں تعارفی اجلاس منعقد کیا گیا۔ وائس چانسلر نے دونوں افسران کو خوش آمدید کہتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی تقرری مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور سخت انتخابی عمل کے بعد عمل میں آئی ہے، جو یونیورسٹی کے میرٹ پر مبنی نظام کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں افسران اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور وسیع تجربے سے انتظامی اور تعلیمی نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنائیں گے، جبکہ تمام انتظامی سربراہان نے بھی ان کے ساتھ بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ جامعہ میں علمی و ادبی سرگرمیوں کو بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ شعبۂ فارسی کے زیر اہتمام منعقدہ کتابی مذاکرے میں ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر انصار اظہر کی تصنیف “اداس آنکھوں سے مسکرانا” پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ایران کلچر سینٹر لاہور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اصغر معصومی نے بطور مہمانِ خصوصی کتاب کو سراہتے ہوئے شعبۂ فارسی کے طلبہ کے لیے وظائف کا اعلان کیا، جبکہ وائس چانسلر نے ایرانی طلبہ کو لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں داخلوں کی مکمل سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور جامعہ میں قائم “اقبال کارنر” کا بھی ذکر کیا، جو فکری و ادبی روابط کے فروغ کی علامت ہے۔ طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اور کاروان فاؤنڈیشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ایک سنگ میل ثابت ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت مرکزی کتب خانے میں کثیر المقاصد مرکز قائم کیا جائے گا جہاں طالبات کو جدید معلوماتی ٹیکنالوجی، عملی مہارتوں اور پیشہ ورانہ تیاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یہ اشتراک طالبات کو ڈیجیٹل معیشت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ کاروان فاؤنڈیشن کی نمائندہ آمنہ علی نے خواتین کو مستقبل کی ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسی طرح سبکدوش ہونے والی اسٹوڈنٹ ایگزیکٹو کونسل کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب میں طلبہ قیادت کی خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ وائس چانسلر نے کونسل کی قائدانہ صلاحیتوں، نظم و ضبط اور طلبہ کی خدمت کے جذبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہی طالبات مستقبل میں یونیورسٹی کی بہترین سفیر ثابت ہوں گی۔ تقریب میں خدمات کے اعتراف میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے حالیہ کامیابیوں کو جامعہ کے معیاری تعلیمی ماحول، قابل اور محنتی تدریسی و غیر تدریسی عملے اور والدین کے اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی آج صرف ایک تدریسی ادارہ نہیں بلکہ خواتین کی قیادت، تحقیق، جدت، ہنر مندی اور قومی ترقی کا ایک مؤثر مرکز بن چکی ہے۔ میرٹ پر مبنی انتظامی فیصلے، علمی و تحقیقی سرگرمیاں، عالمی اداروں سے تعاون، صنعت کے ساتھ روابط اور طالبات کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہے کہ یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نئی مثالیں قائم کرنے کے سفر پر گامزن ہے۔