چائے بھی پیاس بھجاتی ہے ، تازہ تحقیق

چائے کا پیاس بجھانے میں کردار کیسا ہے ؟اکثر لوگ پیاس بجھانے اور جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے برف والے مشروبات، ٹھنڈا پانی یا شربت کا سہارا لیتے ہیں۔ تاثر یہی ہے کہ ٹھنڈا مشروب گرمی کا بہترین علاج ہے، لیکن طبی ماہرین اور مختلف سائنسی تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ گرم چائے بھی جسم کو ٹھنڈا رکھنے اور پیاس کے احساس کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ بات بظاہر حیران کن محسوس ہوتی ہے۔ آئیے بتاتے ہیں کیوں؟ ماہرین کے مطابق جب کوئی شخص گرم چائے یا کوئی اور گرم مشروب پیتا ہے تو جسم اسے محسوس کرتے ہوئے اپنی حرارت کو متوازن رکھنے کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں، خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور جسم میں پسینہ زیادہ آنے لگتا ہے۔ اگر انسان ایسی جگہ موجود ہو جہاں ہوا کا مناسب گزر ہو اور نمی بہت زیادہ نہ ہو تو پسینہ جلد بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ بخارات بننے کے اس عمل میں جسم کی اضافی حرارت بھی خارج ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کا درجۂ حرارت کم ہونے لگتا ہے اور انسان نسبتاً زیادہ ٹھنڈک محسوس کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص بند کمرے، زیادہ مرطوب ماحول یا ایسی جگہ موجود ہو جہاں ہوا کا گزر نہ ہو تو پسینہ خشک ہونے کے بجائے جسم پر ہی رہتا ہے۔ ایسی صورت میں جسم کی حرارت مؤثر انداز میں خارج نہیں ہو پاتی، اس لیے گرم مشروب پینے کا مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس کھلی فضا، ہلکی ہوا اور نسبتاً خشک موسم میں گرم چائے جسم کے قدرتی نظام کو زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے کا موقع دیتی ہے۔ جسم کا اپنا درجۂ حرارت برقرار رکھنے کا نظام انتہائی پیچیدہ اور مؤثر ہے۔ دماغ مسلسل جسم کے مختلف حصوں سے معلومات حاصل کرتا رہتا ہے اور ضرورت کے مطابق خون کی روانی، پسینہ اور دیگر جسمانی عمل کو منظم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ٹھنڈا مشروب وقتی طور پر سکون تو دیتا ہے، لیکن اس کے اثرات جلد ختم ہو جاتے ہیں، جبکہ گرم چائے جسم کے قدرتی نظام کو متحرک کر کے نسبتاً دیرپا فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ گرمی کے موسم میں جسم میں پانی کی کمی سے بچنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ صرف چائے پر انحصار کرنا مناسب نہیں، کیونکہ چائے میں موجود کیفین بعض افراد میں پیشاب کی مقدار بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے دن بھر مناسب مقدار میں سادہ پانی پینا، تازہ پھل استعمال کرنا، دھوپ میں غیر ضروری طور پر زیادہ دیر نہ رہنا اور ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہننا بھی اتنا ہی اہم ہے