بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، مگر آبادی کے وسیع جغرافیائی پھیلاؤ، دشوار گزار علاقوں، محدود تعلیمی سہولیات اور سماجی و قبائلی روایات کے باعث خصوصاً طالبات کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتِ بلوچستان نے باصلاحیت طالبات کو ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے وظائف اور بین الصوبائی تعلیمی تعاون کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ اس سلسلے میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اور حکومتِ بلوچستان کے محکمہ اسکول ایجوکیشن کے درمیان خواتین اساتذہ کے تعلیمی وظائف کے پروگرام کے تحت مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک نہایت اہم اور دور رس اقدام ہے، جو نہ صرف بلوچستان کی طالبات کے لیے نئی امید کی کرن ہے بلکہ قومی یکجہتی، خواتین کے بااختیار بنانے اور معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب ایک مضبوط قدم بھی ہے۔ بلوچستان کی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید خان درانی خود لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی تشریف لائیں اور اس اہم تقریب میں شرکت کی۔ ان کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتِ بلوچستان صوبے کی بچیوں کی تعلیم کو محض ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ اسی طرح لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کا انتخاب اس اعتماد کا مظہر ہے جو ملک بھر میں اس ادارے کی علمی ساکھ، معیاری تدریس اور خواتین کی تعلیم کے میدان میں خدمات پر کیا جاتا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی قیادت میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین کو بااختیار بنانے، تحقیق، اختراع، صنعت و جامعات کے اشتراک اور قومی و بین الاقوامی اداروں سے تعاون کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ حکومتِ بلوچستان کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ اسی وژن کا تسلسل ہے، جس کے تحت دور دراز علاقوں کی طالبات کو معیاری تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، تدریسی مہارتوں اور قائدانہ صلاحیتوں سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے صوبے میں تعلیمی تبدیلی کی مؤثر سفیر بن سکیں۔ حکومتِ بلوچستان اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے درمیان یہ شراکت داری محض ایک مفاہمتی یادداشت نہیں بلکہ پاکستان کی بیٹیوں کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس جذبے اور تعاون کا سلسلہ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب بلوچستان کی تعلیم یافتہ خواتین نہ صرف اپنے صوبے بلکہ پورے ملک کی ترقی، خوشحالی اور علمی قیادت میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔ یہی حقیقی معنوں میں خواتین کو بااختیار بنانے اور ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد ہے۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی آج محض ایک تدریسی ادارہ نہیں بلکہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم، تحقیق، اختراع، صنعتی روابط اور قومی ترقی کے وژن کو عملی شکل دینے والا ایک متحرک علمی مرکز بن چکی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی قیادت میں جامعہ نے گزشتہ برسوں میں ایسے متعدد اقدامات کیے ہیں جنہوں نے اسے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک معتبر ادارے کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ تعلیمی معیار میں بہتری، تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ، صنعت سے روابط، بین الجامعاتی اشتراک اور طالبات میں کاروباری صلاحیتوں کی نشوونما اس وژن کے بنیادی ستون ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کمالیہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت ہے، جس کا مقصد تدریسی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینا، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلوں کو ممکن بنانا، علمی تجربات سے استفادہ کرنا اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔ اس شراکت داری سے دونوں جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیق، علمی سرگرمیوں اور جدید تعلیمی منصوبوں کے لیے نئی راہیں کھلیں گی، جبکہ طلبہ و طالبات کو مختلف شعبوں میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ تقریب میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ریجنل ڈائریکٹر جاوید اقبال بھی شریک ہوئے۔ ایک اور اہم پیش رفت فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ہے، جس کے ذریعے تعلیم اور صنعت کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی عملی کوشش کی گئی ہے۔ اس اشتراک کا مقصد مشترکہ تحقیق، اختراع، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیقی نتائج کی تجارتی افادیت میں اضافہ اور ایسی مصنوعات و خدمات کی تیاری ہے جو ملکی معیشت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔ اس تعاون کے نتیجے میں طالبات کو صنعت کی ضروریات کو سمجھنے، عملی تجربات حاصل کرنے اور روزگار و کاروبار کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ مزید برآں خدیجۃ الکبریٰ بزنس انکیوبیشن سینٹر کی جانب سے پنجاب یوتھ انوویشن اینڈ انکیوبیشن مقابلہ 2026 کے شرکاء کے لیے منعقدہ تربیتی کیمپ اسی سلسلے کی ایک اہم مثال ہے۔ اس پروگرام میں طالبات کو منصوبہ پیش کرنے، کاروباری نمونہ تیار کرنے اور اختراعی خیالات کو کامیاب کاروباری منصوبوں میں تبدیل کرنے کی عملی تربیت دی گئی۔ اس طرح جامعہ نوجوان خواتین کو صرف ملازمت کے لیے نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والی قیادت کے لیے بھی تیار کر رہی ہے۔ در حقیقت پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی قیادت میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسی جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس میں معیاری تعلیم، جدید تحقیق، صنعتی روابط، اختراع، کاروباری صلاحیتوں کا فروغ اور خواتین کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا اولین ترجیح ہے۔ یہی وژن جامعہ کو ایک جدید، متحرک اور باوقار ادارہ بناتا ہے، جہاں طالبات کو علم کے ساتھ ساتھ قیادت، تحقیق، جدت اور عملی زندگی کی کامیابی کے لیے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ یقیناً لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی یہ پیش رفت پاکستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور قومی ترقی کے سفر میں ایک روشن اور قابلِ تقلید مثال ہے۔