یہ ایک ایسے دور کا سچا واقعہ ہے جب اقتدار عیاشی کا نام نہیں تھا بلکہ ایک کانٹوں کا تاج تھا۔ جب دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کا سربراہ کسی عالی شان محل میں نہیں، بلکہ مٹی کے ایک کچے مکان میں رہتا تھا جہاں کسی عام انسان کو بھی آنے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ کہانی ہے تاریخ کے اس عظیم ترین حکمران کی جسے دنیا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے۔
“نہ کوئی گارڈ، نہ کوئی پروٹوکول؟” بادشاہ کا گھر ہے یا کسی غریب کی کٹیا؟
عراق کے ایک دور دراز علاقے سے ایک بے بس، لاچار بیوہ عورت اپنی فریاد لے کر دارالخلافہ پہنچی۔ جب وہ خلیفہ کے گھر کے باہر پہنچی تو وہاں کا منظر دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔ نہ وہاں پہریداروں کی فوج تھی اور نہ ہی شان و شوکت۔
اس نے حیرت اور سہمے ہوئے انداز میں وہاں موجود ایک شخص سے پوچھا:
“کیا امیر المومنین کے دروازے پر کوئی ایسا دربان نہیں جو غریبوں کو اندر جانے سے روکے؟”
وہ شخص مسکرایا اور کہنے لگا:
“خاتون! اس گھر کے مالک کا چوکیدار اس کا خوفِ خدا اور تقویٰ ہے۔ یہاں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، اندر چلی جاؤ۔”
ملکہِ وقت کا وہ جملہ جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا!
جب وہ بیوہ عورت اندر داخل ہوئی تو وہاں کی سادگی دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ گھر کے ایک کونے میں ایک خاتون انتہائی عام لباس میں بیٹھی اپنے ہاتھوں سے اون کات رہی تھی۔ یہ کوئی معمولی خاتون نہیں تھیں، بلکہ اس وقت کی سب سے بڑی مسلم سلطنت کی ملکہ اور خلیفہ کی زوجہ فاطمہ بنت عبدالملک تھیں۔
عراقی عورت نے جب اس کچے اور خالی گھر کو دیکھا تو اس کے منہ سے حسرتِ بھرا جملہ نکلا:
“میں تو اپنی ویران زندگی کو آباد کرنے کے لیے اس محل میں آئی تھی، مگر یہ گھر تو خود ویران ہے!”
ملکہ فاطمہ نے ایک ایسا گہرا جواب دیا جو آج بھی دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے:
“اے بہن! ہمارے اس گھر کی ویرانی ہی کی بدولت تم جیسے لاکھوں مسلمانوں کے گھر آباد ہیں۔ اگر ہم خود کو بھوکا نہ رکھتے، تو امت کے غریب کبھی پیٹ بھر کر نہ سو پاتے۔”
ابھی وہ دونوں گفتگو کر ہی رہی تھیں کہ ایک شخص کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے کپڑے مٹی اور گارے سے لت پت تھے اور وہ کنویں سے پانی نکال نکال کر مٹی گیلی کر رہا تھا تاکہ گھر کی مرمت کر سکے۔ کام کے دوران وہ محبت بھری نظروں سے ملکہ فاطمہ کو دیکھ لیتا تھا۔
عراقی عورت نے جب یہ دیکھا تو وہ گھبرا گئی اور ملکہ کے کان میں آہستہ سے بولی:
“اس مزدور سے پردہ کر لو، یہ بار بار تمہاری طرف دیکھ رہا ہے!”
یہ سن کر ملکہ فاطمہ کھلکھلا کر ہنس پڑیں اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، انہوں نے کہا:
“اماں! یہ کوئی عام مزدور نہیں، بلکہ یہی آدھی دنیا کے مالک اور مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز ہیں!”
یہ سنتے ہی اس بیوہ عورت پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔ وہ بری طرح گھبرا گئی، لیکن خلیفہ نے اس کی اس حالت کو بھانپتے ہوئے کوئی برا نہ منایا۔ وہ اپنی نماز کے لیے تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو ایک ٹوکری سے چن چن کر انگور کے بہترین دانے اپنے ہاتھوں سے اس عورت کے سامنے رکھ دیے۔
خلیفہ نے انتہائی شفقت سے پوچھا: “میری بہن! بتاؤ تمہاری کیا حاجت ہے؟”
اس عورت نے روتے ہوئے اپنی بپتا سنائی: “امیر المومنین! میں ایک بے سہارا بیوہ ہوں اور میری پانچ چھوٹی بیٹیاں ہیں جن کا کائنات میں کوئی مائی باپ نہیں۔ ہم دانے دانے کو محتاج ہیں۔”
“پانچ بیٹیاں۔۔۔” خلیفہ نے یہ الفاظ دہرائے اور ان کا دل بھر آیا۔ وہ بچوں کی طرح زار و قطار رو پڑے۔ انہوں نے فوراً کاغذ اور قلم سنبھالا اور عراق کے گورنر کے نام پروانہ لکھنے لگے۔
انہوں نے پوچھا: “سب سے بڑی بیٹی کا نام؟” نام لکھ کر وظیفہ مقرر کیا۔ عورت نے کہا: الحمدللہ!
دوسری بیٹی کا نام پوچھا، وظیفہ لکھا۔ عورت نے کہا: الحمدللہ!
تیسری کا نام پوچھا، وظیفہ لکھا۔ عورت نے کہا: شکر الحمدللہ!
چوتھی کا نام پوچھا، وظیفہ لکھا۔ عورت فرطِ جذبات سے خلیفہ کی تعریفیں کرنے لگی۔
اب چوتھی بیٹی کے بعد وہ عورت اتنی خوش اور نہال ہو گئی کہ پانچویں بیٹی کا نام بتانا ہی بھول گئی اور خلیفہ کے گن گانے لگی۔
عمر بن عبدالعزیز نے اچانک قلم روک دیا، اپنی نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اور وہ تاریخی جملہ کہا جو رہتی دنیا تک ایک سبق ہے:
“اب پانچویں بیٹی کا وظیفہ نہیں نکلے گا، بلکہ اس کی باقی چار بہنیں اپنے حصے میں سے اسے دیں گی۔ کیونکہ جب تک تم ‘الحمدللہ’ کہہ کر ہر فضل کو اللہ کی طرف لوٹا رہی تھیں، تب تک غیب سے ہمارا قلم بھی چل رہا تھا اور بیت المال سے عطا بھی ہو رہی تھی۔ جیسے ہی تمہاری زبان سے اللہ کا شکر رکا، ہمارے پاس سے عطا کا سلسلہ بھی رک گیا۔”
وہ عورت وہ تاریخی خط لے کر خوشی خوشی عراق پہنچی اور وہاں کے گورنر کو پیش کیا۔ گورنر نے جیسے ہی خط پر خلیفہ کے دستخط دیکھے، وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اس نے تڑپ کر کہا:
“اللہ اس پاک باز روح پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے!”
عورت کا دل دھک سے رہ گیا، اس نے سہم کر پوچھا: “کیا۔۔۔ کیا وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے؟”
گورنر نے روتی ہوئی آواز میں جواب دیا: “جی ہاں! عمر بن عبدالعزیز رخصت ہو گئے، وہ پوری امت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔”
یہ سنتے ہی اس بیوہ عورت کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور اس کے آنسو اس خط پر گرنے لگے جو خلیفہ نے اپنے ہاتھوں سے لکھا تھا:
“ہائے افسوس! وہ کتنا عظیم بادشاہ تھا جو خود بھوکا رہ کر میری بیٹیوں کا نصیب لکھ گیا، اور میں اس کا شکریہ بھی ادا نہ کر سکی۔”
گورنر نے اس کی ڈھارس بندھائی اور تاریخی جملہ کہا:
“خاتون، غم نہ کرو۔ اللہ کی قسم! اگر یہ خط مجھے عمر کی قبر سے بھی ملتا، تب بھی میں اس کے ایک ایک لفظ پر عمل کرتا۔”
گورنر نے خلیفہ کے حکم کے مطابق پانچوں بیٹیوں کا وظیفہ جاری کر دیا اور اس خاندان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
عمر بن عبدالعزیز نے ثابت کیا کہ حقیقی حکومت فوجوں یا خزانوں سے نہیں، بلکہ عدل، انصاف اور اخلاق سے کی جاتی ہے۔ وہ جسمانی طور پر تو دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن اپنی پاکیزہ سیرت، غریبوں کے لیے بہنے والے آنسوؤں اور اپنے لازوال کردار کی وجہ سے آج بھی کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں۔ سچ ہے کہ انصاف کو کبھی زوال نہیں اور جو خدا کے بندوں پر رحم کرتے ہیں، خدا ان کا نام تاریخ کے ماتھے پر جھومر بنا کر چمکا دیتا ہے-