رپورٹس کے مطابق، ریاستہائے متحدہ امریکہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد عراق میں اپنی فوجی موجودگی کے خاتمے کی تیاری کر رہا ہے۔ ‘المانیٹر’ (Al-Monitor) کی رپورٹ کے مطابق، امریکی افواج نے اربیل سے اپنے ‘پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹمز’ (Patriot Air Defense Batteries) کو واپس بلانا شروع کر دیا ہے، جبکہ عراقی کردستان میں موجود باقی ماندہ امریکی فوجیوں کی 30 ستمبر تک واپسی کی توقع ہے۔ اگر یہ عمل مکمل ہو جاتا ہے، تو 2003 کے حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا کہ عراق میں کوئی بھی امریکی فوجی موجود نہیں ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق اس فوجی واپسی کا فیصلہ امریکی ٹھکانوں پر مہینوں سے جاری شدید حملوں اور عراقی کردستان میں امریکی تنصیبات کو بار بار نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جو اس خطے میں تعینات امریکی افواج کی بڑھتی ہوئی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
اربیل ایئرپورٹ سے آخری باقی ماندہ 5 پیٹریاٹ سسٹمز بھی ہٹا لیے گئے ہیں۔ عراقی کردستان تاریخ میں پہلی بار ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے رحم و کرم پر رہ گیا ہے، کیونکہ اب انہیں فضا میں ہی تباہ کرنے (intercept) کے لیے وہاں کوئی اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم موجود نہیں ہے۔