“تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” یہ ایک نعرہ نہیں بلکہ سو فیصد حقیقت ہے جسے جانتے بوجھتے ہم میں سے اکثر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، پوسٹرز لگائے جاتے ہیں اور لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ سگریٹ پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف یہ بتا دینا کافی ہے کہ ’’تمباکو نوشی مضرِ صحت ہے‘‘؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں آج ایک ارب سے زیادہ افراد تمباکو کا استعمال نہ کر رہے ہوتے۔ اصل ضرورت آگاہی سے آگے بڑھ کر ایسی مستقل حکمتِ عملی کی ہے جو انسان کو تمباکو شروع کرنے سے روکے اور عادی افراد کو اسے ترک کرنے میں عملی مدد فراہم کرے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 1.2 ارب افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں اور ہر سال تمباکو کے باعث 70 لاکھ سے زائد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں 16 لاکھ سے زیادہ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خود تمباکو نوش نہیں ہوتے لیکن سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ کا شکار بنتے ہیں۔ یعنی یہ وہ لوگ ہوتے ہیں خود سگریٹ نہیں پیتے بلکہ دوسروں کی سگریٹ نوشی کے دھوئیں کا شکار ہوتے ہیں۔ WHO کے مطابق تمباکو جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتا ہے اور دل کے امراض، فالج، پھیپھڑوں کی بیماریوں اور مختلف اقسام کے سرطان سمیت متعدد بیماریوں کا اہم خطرہ ہے۔
پاکستان بھی اس عالمی مسئلے سے محفوظ نہیں۔ تاہم یہاں ایک حوصلہ افزا پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔ جون 2026 میں جاری ہونے والے پاکستان کے GATS 2024 کے نتائج کے مطابق 2014 سے 2024 کے درمیان ملک میں تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی ہوئی۔ WHO نے اس کمی کو تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں اور عالمی فریم ورک کنونشن کے تحت کیے جانے والے اقدامات سے منسلک کیا ہے۔ یہ اعدادوشمار ہمیں ایک اہم سبق دیتے ہیں کہ اگر قانون سازی، نگرانی، ٹیکس پالیسی، آگاہی اور تمباکو نوشی سے تحفظ کے اقدامات مسلسل جاری رہیں تو نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس پیش رفت کو منزل سمجھنے کے بجائے اسے مزید اقدامات کی بنیاد بنانا ہوگا۔ سب سے بڑا سوال نئی نسل کا ہے۔ آج سگریٹ کے ساتھ ویپنگ، ای سگریٹ اور دیگر نکوٹین مصنوعات بھی نوجوانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت خبردار کرتا ہے کہ نکوٹین خاص طور پر بچوں، نوعمر افراد اور نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ ان کا دماغ ابھی نشوونما کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کم عمری میں نکوٹین کا استعمال بعد کی زندگی میں اس پر انحصار کا امکان بڑھا سکتا ہے۔
یہاں ہمیں اپنی ترجیحات پر غور کرنا ہوگا۔ خبر ہے کہ تعلیمی اداروں کے اردگرد تمباکو مصنوعات کی فروخت کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث یہ دھندا عروج پر ہے۔ کم عمر بچوں کو یہ مصنوعات فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے باعث وہ بلاخوف یہ کام کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایسی تشہیر کی نگرانی نہیں کی جا رہی جو نکوٹین کے استعمال کو جدید طرزِ زندگی، فیشن یا شخصیت کی علامت بنا کر پیش کرتی ہے۔ حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے بھی نشاندہی کی ہے کہ تمباکو اور متعلقہ صنعتیں نئی نسل تک پہنچنے کے لیے نئے ذرائع اور نئی مصنوعات استعمال کرتی ہیں۔ اس لیے آج تمباکو کنٹرول کی جنگ صرف دکان، سگریٹ کے پیکٹ اور اشتہار تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل دنیا تک پھیل چکی ہے۔ تمباکو نوشی کا نقصان صرف سگریٹ پینے والے تک محدود نہیں رہتا۔ گھر میں سگریٹ کا دھواں بچوں، خواتین، بزرگوں اور دیگر افراد کو بھی متاثر کرتا ہے۔ WHO کے مطابق سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ کے لیے کوئی محفوظ سطح موجود نہیں اور اس کے نتیجے میں دل اور سانس کی بیماریوں سمیت سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
تمباکو نوشی کا معاشی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تمباکو پر خرچ ہونے والی رقم ایک طرف خاندان کے بجٹ کو متاثر کرتی ہے اور دوسری طرف تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کی لاگت فرد، خاندان اور ریاست تینوں پر بوجھ ڈالتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف سگریٹ مہنگا کر دینا مسئلے کا حل ہے؟ نہیں۔ ٹیکس میں اضافہ ایک مؤثر ذریعہ ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ غیر قانونی تجارت کی روک تھام، مارکیٹ کی نگرانی، کم عمر افراد کو فروخت پر پابندی، تشہیر پر مؤثر قدغن اور عوامی مقامات پر قانون کا حقیقی نفاذ بھی ضروری ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی ترک کرنے کے خواہش مند افراد کو صرف نصیحت نہیں بلکہ سہولت بھی فراہم کرنا ہوگی۔ ڈاکٹرز، بنیادی مراکزِ صحت اور ہسپتالوں میں ترکِ تمباکو کے لیے مشاورت اور معاونت کی سہولت دستیاب ہونی چاہیے۔ اس مہم میں والدین اور اساتذہ کا کردار بھی بنیادی ہے۔ بچوں کو صرف ڈانٹنے کے بجائے انہیں سمجھانا ہوگا کہ نکوٹین کی لت کس طرح پیدا ہوتی ہے، اس کے صحت اور مالی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دوستوں کے دباؤ سے کس طرح محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں محض ’’نو اسموکنگ‘‘ کے بورڈ لگانا کافی نہیں؛ باقاعدہ تعلیمی پروگرام اور مشاورتی نظام بھی ہونا چاہیے۔
میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تمباکو نوشی کے خلاف ایک دن کی مہم کے بجائے پورا سال مسلسل آگاہی ضروری ہے۔ اخبارات، ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر حقیقی کہانیاں، طبی معلومات اور ترکِ تمباکو کے عملی طریقے عام کیے جائیں۔ پاکستان میں تمباکو کے استعمال میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر نئی نکوٹین مصنوعات اور نوجوانوں تک ان کی رسائی ایک نئے چیلنج کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ اس لیے موجودہ کامیابی پر مطمئن ہو کر بیٹھ جانے کے بجائے ہمیں اپنی پالیسی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ ہمارے سامنے سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ سگریٹ پیتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کتنے بچوں اور نوجوانوں کو اس عادت سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے خلاف جدوجہد کسی ایک وزارت، ادارے یا ایک دن کی مہم کا نام نہیں۔ یہ قومی صحت، معیشت اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کا مسلسل عمل ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دس برس میں تمباکو کے استعمال میں کمی لا کر ثابت کیا ہے کہ مؤثر اقدامات نتائج دے سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پیش رفت کو مستقل قومی ترجیح بنایا جائے، قانون پر بلاامتیاز عمل ہو اور سب سے بڑھ کر ہماری نئی نسل کو نکوٹین کی نئی شکلوں کے جال سے محفوظ رکھا جائے۔