یمن میں جاری تنازع کو صرف سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ سمجھنا اس پیچیدہ بحران کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس کے پس منظر میں یمن کی داخلی سیاسی کشمکش، مذہبی و قبائلی تقسیم، اقتدار کی جنگ، سعودی عرب اور ایران کی علاقائی رقابت اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران پیدا ہونے والی نئی جغرافیائی سیاسی صورتحال شامل ہے۔ حوثی تحریک آج یمن کے ایک بڑے حصے پر اپنا اثر رکھتی ہے اور اس تنازع نے پورے مشرق وسطیٰ کو متاثر کیا ہے۔ حوثیوں کو عربی میں عموماً ’’انصار اللہ‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ ’’حوثی‘‘ نام اس تحریک کے بانی خاندان سے نکلا ہے۔ یہ تحریک شمالی یمن کے صوبہ صعدہ میں زیدی شیعہ برادری کے اندر مذہبی، سیاسی اور سماجی تحریک کے طور پر ابھری۔ زیدی یمن کی تاریخ میں ایک اہم مذہبی اور سیاسی قوت رہے ہیں اور کئی صدیوں تک شمالی یمن میں زیدی اماموں کی حکومت بھی قائم رہی۔ حوثی تحریک کی فکری بنیاد 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں ہونے والی زیدی مذہبی و ثقافتی بیداری سے جڑی ہوئی تھی۔ حسین بدرالدین الحوثی اس تحریک کے اہم بانی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ ابتدا میں اس کا زور مذہبی شناخت، سیاسی اصلاحات اور شمالی یمن کے لوگوں کے حقوق پر تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک مسلح سیاسی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔
حوثیوں کو یمنی حکومت کے خلاف پہلا بڑا مسلح تصادم 2004ء میں پیش آیا۔ اس وقت یمن کے صدر علی عبداللہ صالح تھے۔ حسین الحوثی اور ان کے ساتھیوں کا حکومت سے شدید اختلاف ہوا اور لڑائی شروع ہوگئی۔ حسین الحوثی مارے گئے، جس کے بعد ان کے خاندان اور ساتھیوں نے تحریک کو مزید منظم کیا اور حکومت کے خلاف کئی مرحلوں میں جنگ جاری رہی۔ حوثیوں اور علی عبداللہ صالح کی حکومت کے درمیان 2004ء سے 2010ء تک متعدد جنگیں ہوئیں۔ اس دوران سعودی عرب بھی ایک مرحلے پر یمنی حکومت کی مدد کے لیے براہ راست لڑائی میں شامل ہوا، کیونکہ سعودی سرحد کے قریب حوثی سرگرمیاں ریاض کے لیے ایک سکیورٹی مسئلہ بن رہی تھیں۔ یوں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی 2015ء کی جنگ سے کئی سال پہلے ہی شروع ہوچکی تھی۔ 2011ء میں عرب دنیا میں سیاسی احتجاج کی لہر یمن تک پہنچی۔ علی عبداللہ صالح کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور بالآخر وہ اقتدار سے الگ ہوگئے۔ اس کے بعد نائب صدر عبدربہ منصور ہادی نے اقتدار سنبھالا۔ یمن میں سیاسی انتقال اقتدار کا ایک عمل شروع کیا گیا، جس کا مقصد مختلف سیاسی اور علاقائی گروہوں کو ایک نئے نظام میں شامل کرنا تھا۔ لیکن یہ سیاسی عمل زیادہ دیر کامیاب نہ ہوسکا۔ یمن میں معاشی مشکلات، بے روزگاری، سیاسی اختلافات، قبائلی کشیدگی اور اقتدار کی تقسیم پر تنازعات بڑھتے گئے۔ 2014ء میں حکومت کی جانب سے ایندھن کی سبسڈی میں کمی کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہوا تو حوثیوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی حمایت حاصل کی اور ایک نئی حکومت کا مطالبہ کیا۔
اسی سال حوثی جنگجوؤں نے تیزی سے دارالحکومت صنعاء کی طرف پیش قدمی کی۔ ستمبر 2014ء میں حوثیوں اور ان کے اتحادیوں نے صنعاء کے بڑے حصوں پر قبضہ کرلیا۔ یمنی فوج کے بعض دھڑے اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار عناصر بھی حوثیوں کے ساتھ مل گئے، جس سے ان کی فوجی طاقت میں مزید اضافہ ہوا۔ جنوری 2015ء میں حوثیوں نے صدارتی محل اور دیگر اہم سرکاری مراکز پر قبضہ کرلیا۔ صدر عبدربہ منصور ہادی نے پہلے استعفیٰ دیا، بعد میں اسے واپس لیا اور صنعاء سے نکل کر عدن پہنچے۔ جب حوثی فورسز نے عدن کی جانب بھی پیش قدمی شروع کی تو ہادی سعودی عرب چلے گئے۔ اس مرحلے پر یمن کا بحران مکمل طور پر ایک بڑے فوجی تنازع میں تبدیل ہوگیا۔ سعودی عرب کے لیے یہ صورتحال انتہائی اہم تھی کیونکہ یمن اس کی جنوبی سرحد پر واقع ہے۔ ریاض کو خدشہ تھا کہ حوثی تحریک اگر پورے یمن میں اپنی طاقت مستحکم کرلیتی ہے تو سعودی سرحد کے ساتھ ایک مخالف مسلح قوت قائم ہوجائے گی۔ حوثیوں کے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات نے سعودی خدشات میں مزید اضافہ کیا۔
26 مارچ 2015ء کو سعودی عرب کی قیادت میں ایک عرب فوجی اتحاد نے یمن میں فوجی کارروائی شروع کردی۔ سعودی عرب کا مؤقف تھا کہ وہ صدر ہادی کی درخواست پر یمن کی قانونی حکومت کی بحالی اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے مداخلت کر رہا ہے۔ اس اتحاد میں متعدد عرب ممالک شامل ہوئے اور ابتدائی مرحلے میں فضائی حملے اس جنگ کا نمایاں حصہ بن گئے۔ یوں 2015ء سے یمن کی جنگ ایک داخلی خانہ جنگی کے ساتھ ساتھ علاقائی طاقتوں کے درمیان کشمکش بھی بن گئی۔ ایک طرف حوثی تحریک اور اس کے مقامی اتحادی تھے، جبکہ دوسری طرف بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور مختلف سعودی و اماراتی حمایت یافتہ قوتیں تھیں۔ جنوبی یمن کے علیحدگی پسند گروہ، قبائلی فورسز اور دیگر مسلح تنظیمیں بھی اپنے اپنے مفادات کے ساتھ میدان میں موجود رہیں۔
اس جنگ میں ایران کا کردار سب سے زیادہ زیر بحث رہا ہے۔ ایران حوثیوں کا اہم بیرونی حامی سمجھا جاتا ہے اور متعدد بین الاقوامی تجزیوں کے مطابق تہران نے انہیں اسلحہ، تربیت، فوجی مشاورت اور ڈرون و میزائل ٹیکنالوجی سمیت مختلف نوعیت کی مدد فراہم کی۔ تاہم حوثیوں کو مکمل طور پر ایران کی ایک ایسی تنظیم سمجھنا درست نہیں جو ہر معاملے میں تہران کے احکامات پر عمل کرتی ہو۔ حوثیوں اور ایران کے درمیان مذہبی فرق بھی موجود ہے۔ ایران میں غالب مذہبی مکتب فکر اثنا عشری شیعہ ہے، جبکہ حوثی تحریک تاریخی طور پر زیدی شیعہ پس منظر رکھتی ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان تعلق صرف مذہبی بنیاد پر قائم نہیں ہوا بلکہ سیاسی، فوجی اور علاقائی مفادات نے بھی اس تعلق کو مضبوط کیا۔ کئی ماہرین حوثیوں کو ایران کا مکمل تابع گروہ قرار دینے کے بجائے ایران کا قریبی اتحادی یا شراکت دار سمجھتے ہیں۔
ایران کے لیے یمن کی جغرافیائی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ یمن بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے قریب واقع ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں اضافے نے انہیں نہ صرف یمن کے اندر بلکہ خطے میں بھی ایک اہم عسکری قوت بنا دیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے لیے یمن کا مسئلہ صرف علاقائی سیاست نہیں بلکہ قومی سلامتی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حوثیوں نے مختلف ادوار میں سعودی علاقوں، فوجی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن میں فضائی کارروائیاں کیں۔ اس مسلسل حملے اور جوابی حملے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کیا۔ 2017ء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح نے حوثیوں سے تعلق ختم کرکے سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی، لیکن یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ دسمبر 2017ء میں حوثیوں اور صالح کے درمیان لڑائی ہوئی اور علی عبداللہ صالح مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد حوثیوں نے صنعاء اور شمالی یمن میں اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی۔
جنگ کے دوران یمن کے عوام کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ فضائی حملوں، زمینی لڑائی، معاشی تباہی، بیماریوں اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ اسپتال، اسکول، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے بھی شدید متاثر ہوئے۔ یمن میں خوراک، پانی، صحت اور روزگار کے مسائل نے انسانی بحران کو مزید سنگین کردیا۔2018ء میں الحدیدہ کی بندرگاہ کے گرد لڑائی نے عالمی تشویش مزید بڑھا دی، کیونکہ یہ بندرگاہ یمن میں تجارتی سامان اور انسانی امداد کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم تھی۔ شدید لڑائی کے خطرے کے بعد بین الاقوامی کوششوں سے دسمبر 2018ء میں اسٹاک ہوم معاہدہ ہوا، جس کے تحت الحدیدہ میں جنگ بندی اور دیگر اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ 2022ء میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی نے نسبتاً سکون پیدا کیا۔ سرحد پار حملوں میں نمایاں کمی آئی اور سیاسی مذاکرات کے امکانات پیدا ہوئے، اگرچہ یمن کے بنیادی سیاسی اختلافات مکمل طور پر حل نہ ہوسکے۔ یمن بدستور مختلف سیاسی اور فوجی قوتوں میں تقسیم رہا اور مستقل امن کا جامع معاہدہ طے نہ پاسکا۔
2023ء میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے متعلق بحری جہازوں اور بعد میں بعض بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا۔ حوثیوں نے ان کارروائیوں کو غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی قرار دیا، جبکہ امریکا اور دیگر ممالک نے اسے عالمی بحری تجارت کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اس صورتحال نے یمن کے بحران کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ آج حوثی تحریک صرف شمالی یمن کی ایک مقامی مسلح تنظیم نہیں رہی بلکہ یمن کی سیاست، خطے کی طاقت کی کشمکش اور بحیرہ احمر کی سلامتی میں ایک اہم فریق بن چکی ہے۔ تاہم یمن کی مکمل صورتحال کو صرف ’’ایران بمقابلہ سعودی عرب‘‘ کے تناظر میں دیکھنا بھی درست نہیں، کیونکہ اس کے اندرونی اسباب میں قبائلی سیاست، معاشی بحران، شمال اور جنوب کے اختلافات، مرکزی حکومت کی کمزوری اور اقتدار کی طویل کشمکش بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یمن کی جنگ نے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ ایک ملک کا داخلی سیاسی بحران جب علاقائی طاقتوں کی رقابت سے جڑ جائے تو اسے ختم کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ حوثیوں کی طاقت، سعودی عرب کے سکیورٹی خدشات، ایران کی حمایت، یمنی حکومت اور جنوبی قوتوں کے مفادات سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے یمن میں پائیدار امن صرف فوجی کارروائی سے نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی معاہدے سے ممکن ہوگا جس میں یمن کے مختلف فریقوں کے بنیادی سیاسی اور معاشی مطالبات کو شامل کیا جائے۔
حوثی تحریک کی کہانی دراصل یمن کی کئی دہائیوں پر محیط سیاسی، مذہبی، قبائلی اور علاقائی کشمکش کی کہانی ہے۔ 2004ء کی مقامی بغاوت سے شروع ہونے والا یہ سفر 2014ء میں صنعاء پر قبضے، 2015ء میں سعودی فوجی مداخلت، ایران کی بڑھتی ہوئی حمایت، طویل خانہ جنگی اور بحیرہ احمر تک پھیلنے والی کشیدگی تک پہنچ چکا ہے۔ اس جنگ کا سب سے اہم سوال آج بھی یہی ہے کہ یمن میں طاقت کا مستقبل کس سیاسی سمجھوتے کے ذریعے طے ہوگا، کیونکہ عسکری فتح کے باوجود گزشتہ برسوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ مستقل امن کے لیے سیاسی حل ناگزیر ہے۔