مفتی ظہیر احمد فاروقی

صفر المظفر بدشگونی کی تردید، برکتوں کا اثبات: آئیں کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہیں تحریر: مفتی ظہیر احمد فاروقی

اسلام انسان کو ہر قسم کی فکری، اعتقادی اور عملی گمراہی سے نکال کر حق و ہدایت کی شاہراہ پر گامزن کرتا ہے۔جن خرابیوں کو اسلام نے سب سے پہلے ختم کیا،ان میں توہم پرستی،بدشگونی اور بے بنیاد رسومات بھی شامل ہیں۔بدقسمتی سے آج بھی ہمارے معاشرے میں بعض لوگ اسلامی مہینوں کے بارے میں ایسے تصورات رکھتے ہیں جن کی نہ قرآنِ مجید میں کوئی بنیاد ملتی ہے اور نہ ہی احادیثِ نبویہ میں۔انہی میں ایک تصور صفرالمظفر کی نحوست کا بھی ہے۔بعض لوگ اس مہینےمیں شادی،کاروبار،سفر یا دیگر اہم کاموں سے اجتناب کرتے ہیں صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو”تیرہ تیزی”کا نام دے کر زیادہ منحوس سمجھتے ہیں۔بعض علاقوں میں صفر کے آخری بدھ کے حوالے سے مختلف رسومات ادا کی جاتی ہیں، اسی طرح ہمارا معاشرہ بدشگونی کا بھی شکار ہے میں چند مثالیں دیتا ہوں۔
بلی نے راستہ کاٹ دیا،اب سفر یا کام کامیاب نہیں ہوگا۔گھر سے نکلتے وقت کسی نے پیچھے سے آواز دی،اب کام نہیں بنےگا۔صبح سویرے کسی خاص شخص کا چہرہ دیکھ لیا، آج کا دن خراب گزرے گا۔
کوا بول رہا ہے، ضرور کوئی بری خبر آئے گی۔اُلو گھر کی چھت پر بیٹھ جائے تو اسے نحوست سمجھنا۔فلاں دن:مثلاً منگل یا بدھ: نیا کام شروع کرنا منحوس سمجھنا۔آئینہ ٹوٹ جائے تو مصیبت آنےکا یقین کرنا۔بائیں آنکھ پھڑکے تو بُرا واقعہ ہوگا،دائیں آنکھ پھڑکے تو اچھا ہوگا۔راستے میں خالی برتن یا جنازہ دیکھ کر کام چھوڑ دینا۔چھینک آنے کی وجہ سے سفر یا کام روک دینا، یہ سمجھ کر کہ اب کام خراب ہوگا۔ تو یہ سب جاہلیت اور دین سے دوری ہےایک مسلمان کےلیےضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عقیدے اور عمل کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھے۔قرآنِ کریم نے انسان کو بار بار اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوٓا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ”اگر تم ایمان والے ہو تو اللہ ہی پربھروسا کرو”ایک اور مقام پر فرمایا:وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهُ”جو اللہ پر بھروسا کرے،اللہ اس کے لیے کافی ہے”یہ آیات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ کامیابی اور ناکامی، خوشی اور غم، نفع اور نقصان سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتے ہیں۔ کسی مہینے، دن یا تاریخ کو بذاتِ خود مؤثر سمجھنا اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔رسولِ اکرم خاتم النبیین ﷺ نے زمانۂ جاہلیت کے باطل عقائد کو ختم کرتے ہوئے فرمایا:لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ”کوئی بیماری اللہ کے حکم کے بغیر خود بخود متعدی نہیں،نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے،نہ الو کی نحوست،اور نہ صفر کی کوئی نحوست ہے”صحیح بخاری” یہ حدیث اس مسئلے میں نہایت واضح اور فیصلہ کن رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ رسول اکرم خاتم النبیین ﷺ نے صاف الفاظ میں صفر کے متعلق جاہلیت کے باطل عقیدے کی تردید فرمائی۔ اس لیے کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس مہینے کو منحوس سمجھے یا اس کی وجہ سے جائز کاموں کو ترک کرے اسلام میں تمام مہینے اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں۔کسی مہینے کومنحوس قرار دینا قرآن و سنت سے ثابت نہیں اگر کوئی شخص صفر میں کسی آزمائش سے دوچار ہو جائے تو اسے اس مہینے کی نحوست قرار دینا درست نہیں،کیونکہ آزمائشیں سال کے ہر مہینے میں آ سکتی ہیں۔یہ بھی مشاہدہ ہے کہ جب صفر میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جائے تو اسے فوراً اس مہینے سے جوڑ دیا جاتا ہے، لیکن اگر اسی مہینے میں خوشیاں، کامیابیاں یا نعمتیں حاصل ہوں تو ان کا ذکر نہیں کیا جاتا۔یہ رویہ انصاف اور اسلامی فکر کے مطابق نہیں۔مومن کا ایمان تقدیر پر ہوتا ہے، نہ کہ توہمات پر،
آئیے! اب آپ کے سامنے کچھ تاریخی حقائق رکھتا ہوں جن سے یہ واضح ہو جائے گا کہ صفر المظفر نحوست کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت،برکت،کامیابی اور خیرکا مہینہ ہے بعض روایات کے مطابق”ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر المظفر میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت خاتون جنت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی ہوئی۔سب سے پہلا جہاد بھی صفر المظفرکے مہینے میں ہوا،حضرت صفیہ بنت حیی سے اسی ماہ میں کریم آقاﷺ نے نکاح فرمایا،7ھ صفرالمظفر کے ماہ میں ہی خیبر فتح ہوا،حضرت عمرو بن العاص حضرت خالد بن ولید حضرت ثمامہ بن اثال رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے اسی ماہ مبارک میں اسلام قبول کیا، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی سرکردگی میں 27 صفر المظفر کو لشکر ترتیب دیا گیا،11ھ میں اسود عنسی کذاب کو حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ تعالی عنہ نے واصل جہنم کیا،صفر المظفر 16ھ میں مدائن کی فتح ہوئی، صفر المظفر 16ھ میں ایوان کِسری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز جمعہ ادا کی اور یہ سرزمین عراق پر قائم کیا جانے والا پہلا جمعہ تھا، آذربائیجان صفر المظفر 22 ہجری میں اسلام کے زیر نگیں آیا،قرارداد پاکستان صفرالمظفر1359ھ میں منظور ہوئی۔معلوم ہوا کہ صفر المظفر بامراد، فتح و نصرت والا اور برکتوں سے سرفراز مہینہ ہےلہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس مہینے کے بارے میں پائے جانے والے بے بنیاد توہمات اور بدشگونی سے اجتناب کریں۔آخر میں میری ایک عرض ہے کہ آج ذرائع ابلاغ، تعلیمی اداروں، مساجد اور گھروں میں اس موضوع پر درست رہنمائی کی ضرورت ہے۔ والدین اپنی اولاد کو یہ سکھائیں کہ کسی دن، تاریخ یا مہینے میں کوئی ذاتی نحوست نہیں ہوتی۔ آئمہ و خطباء اپنے خطبات میں قرآن و سنت کی روشنی میں ان غلط فہمیوں کا ازالہ کریں، اور اہلِ قلم اپنے مضامین کے ذریعے معاشرے میں صحیح اسلامی فکر کو فروغ دیں۔