ایم فاروق انجم بھٹہ

نشے کی لعنت: ہماری نئی نسل اور مسلم معاشرے کا المیہ

ہر دور اپنے ساتھ کچھ آزمائشیں لے کر آتا ہے، مگر موجودہ دور کی سب سے خطرناک آزمائشوں میں سے ایک نشے اور منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ یہ ایسا خاموش زہر ہے جو نہ صرف انسان کی عقل، صحت اور کردار کو کھوکھلا کرتا ہے بلکہ خاندانوں کو بکھیر دیتا، معاشروں کو بے سکون کر دیتا اور قوموں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس امت کو اللہ تعالیٰ نے قرآن جیسی ہدایت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل رہنما اور پاکیزہ طرزِ زندگی عطا فرمایا، آج اسی امت کا ایک طبقہ اس لعنت کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال صرف تشویش ناک ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ بھی ہے۔
اسلام نے انسان کی جان، عقل، مال، عزت اور نسل کی حفاظت کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ اسی لیے ہر وہ چیز جو عقل کو زائل کرے، انسان کو بے راہ روی کی طرف لے جائے اور معاشرے میں فساد پیدا کرے، اسے حرام قرار دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو “اُمُّ الخبائث” قرار دیا، کیونکہ یہی وہ دروازہ ہے جس سے بے شمار گناہ جنم لیتے ہیں۔ جب عقل پر پردہ پڑ جائے تو انسان حلال و حرام، خیر و شر اور عزت و ذلت کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے صرف شراب پینے سے نہیں بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ منشیات اب صرف بڑے شہروں یا جرائم پیشہ افراد تک محدود نہیں رہیں بلکہ گاؤں، محلوں، تعلیمی اداروں اور یہاں تک کہ ہمارے گھروں کے دروازوں تک پہنچ چکی ہیں۔ نوجوان، جو قوم کا سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، مختلف قسم کی منشیات کا شکار بن رہے ہیں۔ ابتدا محض تجسس، دوستوں کی فرمائش یا وقتی تفریح سے ہوتی ہے، لیکن آہستہ آہستہ یہی شوق ایسی زنجیر بن جاتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔ کتنے ہی ہونہار طلبہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، کتنے نوجوان جرائم کی دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں اور کتنے والدین اپنی زندگی بھر کی کمائی اپنے بچوں کے علاج پر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اگر اس مسئلے کی جڑ تک پہنچا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑی وجہ دین سے دوری اور تربیت کا فقدان ہے۔ جب گھروں میں قرآن کی تلاوت، سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ، نماز کی پابندی اور اخلاقی تربیت کمزور پڑ جائے تو نوجوانوں کے دل میں اللہ کا خوف بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ والدین بچوں کی ڈگریوں کی فکر تو کرتے ہیں، مگر ان کے کردار، دوستوں اور روزمرہ مصروفیات پر وہ توجہ نہیں دیتے جس کی ضرورت ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے برے ماحول اور غلط صحبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بری صحبت ہمیشہ سے انسان کی تباہی کا سبب رہی ہے۔ نشہ فروش نوجوانوں کی نفسیات کو خوب سمجھتے ہیں۔ وہ پہلے مفت نشہ دیتے ہیں، رنگین خواب دکھاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ انہیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ جب ایک مرتبہ جسم اس زہر کا عادی ہو جائے تو پھر انسان اپنی عزت، دولت، تعلیم اور مستقبل سب کچھ قربان کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں خاندان بھی بے بس نظر آنے لگتا ہے۔
ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج بعض نوجوان نشے کو جدید فیشن، اسٹیٹس یا ذہنی سکون کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ نشہ وقتی سرور تو دے سکتا ہے، مگر مستقل سکون کبھی نہیں دیتا۔ اس کا انجام بیماری، بے سکونی، مالی تباہی، گھریلو جھگڑوں، جرائم اور سماجی رسوائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا بھر کی طبی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ منشیات انسان کے دماغ، دل، جگر اور اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، جبکہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی اس تباہی سے خبردار کر دیا تھا۔
یہ بھی ہماری اجتماعی کمزوری ہے کہ جب کوئی نوجوان اس لعنت کا شکار ہو جاتا ہے تو ہم اسے سنبھالنے کے بجائے اس سے دوری اختیار کر لیتے ہیں۔ اسے طعنے دیے جاتے ہیں، خاندان کو بدنام کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اسے مکمل طور پر تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اصلاح کے بجائے مزید تباہی کا سبب بنتا ہے۔ اسلام کا مزاج یہ نہیں۔ اسلام گناہ سے نفرت کرنا سکھاتا ہے، گناہ گار کو اصلاح کا موقع دینا سکھاتا ہے۔ اگر محبت، حکمت اور خلوص کے ساتھ ایسے افراد کا ہاتھ تھاما جائے تو بہت سے لوگ دوبارہ باعزت زندگی گزار سکتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنی ذمہ داری کو سمجھیں، اساتذہ صرف نصاب نہیں بلکہ کردار سازی پر بھی توجہ دیں، علماء منشیات کے خلاف مسلسل آگاہی پیدا کریں، میڈیا اس ناسور کے خلاف مثبت مہم چلائے اور حکومت منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔ ساتھ ہی نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدان، مطالعے کی فضا، ہنر سکھانے کے مراکز اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع بھی پیدا کیے جائیں تاکہ ان کی توانائیاں صحیح سمت میں استعمال ہوں۔
یہ بات بھی حوصلہ افزا ہے کہ ملک میں منشیات کے علاج اور بحالی کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ اگر کسی گھر کا فرد اس لعنت میں مبتلا ہو جائے تو اسے شرمندگی کی علامت سمجھنے کے بجائے بروقت علاج کی طرف لانا چاہیے۔ بیماری چھپانے سے بڑھتی ہے، جبکہ بروقت علاج زندگی بچا سکتا ہے۔
اگر ہم واقعی اپنی نسلوں کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں گھروں سے اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا۔ قرآن کی تعلیم، نماز کی پابندی، والدین کی شفقت، اچھے دوست، مثبت ماحول اور معاشرے کی اجتماعی نگرانی وہ ستون ہیں جن پر ایک پاکیزہ معاشرہ تعمیر ہوتا ہے۔ قومیں صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ باکردار نوجوانوں سے بنتی ہیں، اور اگر یہی نوجوان نشے کے اندھیروں میں کھو جائیں تو قوم کا مستقبل بھی تاریک ہو جاتا ہے۔
آئیے آج عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں، محلوں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ اپنے نوجوانوں کو تنقید نہیں بلکہ رہنمائی دیں گے، نفرت نہیں بلکہ محبت دیں گے، مایوسی نہیں بلکہ امید دیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، باوقار اور اسلامی معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نسلوں کی صحیح تربیت کرنے، انہیں ہر قسم کی برائی اور منشیات سے محفوظ رکھنے اور قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔