لاہور پولیس نے ویلنشیاء ٹاؤن میں ماں اور تین بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے سے متعلق پریس کانفرنس میں تحقیقات کی تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے بیرونِ ملک قیام کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں کیمیکل فروخت کرنے والے ایک شخص سے رابطہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مطلوبہ کیمیکل بیرونِ ملک بھیجنے سے انکار کیے جانے کے بعد خاتون نے پاکستان آکر چونگی امرسدھو کے ایک دکاندار سے منی گرام کے ذریعے ادائیگی کرکے مبینہ طور پر کیمیکل حاصل کیا۔
پریس کانفرنس کے مطابق خاتون نے مبینہ طور پر کیمیکل کے عوض ایک لاکھ 38 ہزار روپے ادا کیے، جبکہ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ متعلقہ دکاندار نے وہ کیمیکل اکبری منڈی سے خریدا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون نے پاکستان آنے کے بعد مبینہ طور پر کیمیکل اپنی ایک دوست کے پتے پر منگوایا، جہاں سے رائیڈر نے واقعے سے ایک روز قبل اسے متعلقہ گھر پہنچایا۔ تحقیقات کے دوران موبائل فون کے ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خاتون مبینہ طور پر خود اور اپنے اہلِ خانہ سے متعلق مختلف معلومات انٹرنیٹ پر تلاش کرتی رہی تھیں۔ لاہور پولیس کے مطابق موبائل ریکارڈ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر رائیڈر، چونگی امرسدھو کے دکاندار اور اکبری منڈی کے دکاندار کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔