پنجاب حکومت52ہزار سے زائد سکولز نجی شعبے کے سپرد کرنے کا عمل شروع کر چکی ہے گزشتہ دو سال سے زائد عرصہ کے دو مرحلوں میں10ہزار سے زائد سکول،انفرادی شخصیات، بڑی چینز اور این جی اوز کے سپرد کر چکی ہے۔ 2025ءمیں اہداف حاصل نہ ہونے پر2026ءکو ٹارگٹ کیا گیا تھا اس میں بقیہ سکولز سے جان چھڑوائی جائے گی،10ہزار سے زائد سکول جو نجی شعبے کے سپرد کیے گئے تھے ان کی حالت ِ زارکیا ہے ان سکولوں میں درخت موجود ہیں، فرنیچر موجود ہے،اساتذہ اور بچے کس حال میں ہیں؟ اس پر کسی اور وقت روشنی ڈالیں گے۔ کاہنہ میں ہونے والے افسوسناک سانحہ کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کے ایکشن اور سخت احکامات کے بعد محکمہ ایجوکیشن اور دیگر ڈیپارٹمنٹ جس انداز میں ایکٹو ہوئے ہیں وہ قابل ِ ستائش ہے۔
آج کے کالم کے مختلف حصوں کو آپ نے ملا کر پڑھنا ہے پھر حقائق بھی سمجھ سکیں گے اور پنجاب کے محکمہ تعلیم اور دیگر اداروں کی آنیاں جانیاں بھی جان سکیں گے۔ایک ایجنڈا آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا ہے جس پر عملدرآمد کے لئے گزشتہ پنجاب حکومتوں کے تسلسل میں موجودہ حکومت سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ کر رہی ہے اس کے لئے ایک پیف کا تجربہ ناکام ہونے کے بعد اب بڑی تعلیمی اداروں کی چینز اور این جی اوز کے ساتھ انفرادی شخصیات کو سکول دینے کا پلان جاری ہے اس کے لئے سرکاری سکولوں کے ابتری تعلیمی معیار کو جواز بنا کر عرصہ سے اساتذہ کی بھرتیاں بند ہیں اور درجنوں سکولوں کے ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل تک نہیں ہیں۔ اساتذہ گزشتہ دو سال سے سڑکوں پر ہیں ان کی ترقیاں رکی ہوئی ہیں ان کی مراعات پر بڑا کٹ لگا دیا گیا ہے، اساتذہ کے ساتھ کیا گزر رہی ہے آج کا عنوان نہیں ہے۔ان مخدوش اور مایوسی کے حالات میں وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ نے محکمہ تعلیم کے افسروں اور وزیر تعلیم رانا سکندر کے ساتھ طویل نشست کی اور اس موقع پر وزیراعلیٰ نے نجی سکولوں کی رجسٹریشن کا عمل ڈیجیٹلائز کرنے اور ٹیوشن سنٹرز کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کی اس موقع پر محترمہ مریم نواز صاحبہ نے خوشخبری سنائی43لاکھ نئے بچوں نے سرکاری سکولوں کا رخ کیا ہے ہم نے جو سرکاری سکولوں کو ٹارگٹ دیا تھا وہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ساتھ پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن (پیف) کے نظام کو اِزسر نو مرتب کرنے اور ڈیجیٹل کرنے کا بھی حکم دیا اور فرمایا پیف سے تنخواہ لینے والے ایک لاکھ 38ہزار اساتذہ کے اکاﺅنٹ نئے سرے سے کھولے جائیں اور ان کی ادائیگیوں کا میکنزم بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے اِس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کو ہر ہفتے کسی سرکاری سکول میں جا کر خود کلاس لینے کی بھی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں بی ایس آر پی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اب وزیراعلیٰ کے احکامات کی روشنی میں وزیر تعلیم رانا سکندر صاحب سرکاری سکولوں میں جائیں گے اور باقاعدہ ایک کلاس لیا کریں گے۔ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اب سرکاری سکولوں کی انتظامیہ کے مسائل سے آگاہی بھی ہو گی اور انتظامیہ کو حالِ دِل بتانے کا موقع ملے گا۔ ضروری اور اہم بات جو میں پہلے کرنا چاہتا تھا اب آخر میں کروں گا۔ چھ جولائی کو پنجاب حکومت کے سرکاری سکولوں سے1207 خالی آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں ختم کی گئی آسامیوں میں بیلدار ،مالی، چوکیدار، نائب قاصد، کلاس فور کے ملازمین میں لیب اسسٹنٹ انچارج، لیب انچارج، لیب اٹینڈنٹ کی آسامیاں شامل ہیں یہ سارا عمل رائٹ سائزنگ کے نام پر کیا گیا ہے۔ تاثر دیا جا رہا ہے 1208 سے زائد آسامیاں ختم کرنے سے مالی بوجھ کم ہو جائے گا۔ ختم کی گئی آسامیوںکے حوالے سے بتایا گیا ہے یہ صوبے سے ختم کی جانے والی30ہزار آسامیوں کا حصہ ہے دلچسپ انکشاف ہوا ہے30ہزار یا 1207 آسامیاںخالی نہیں تھیں بلکہ خالی کرنے کے لئے گذشتہ کئی سالوںسے بھرتیاں ہی نہیں کی گئیں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے اساتذہ کی بھرتی پر پابندی نہیں ہے پرنسپل کی نشستیں بھی عرصہ سے خالی آ رہی تھیں اب انکشاف ہوا ہے ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے ملازمین بھی بھرتی نہیں کئے جا رہے جس کی وجہ سے سکولوں کی حالت ِ زار کیا ہے، سکول انتظامیہ کے ساتھ کیا بیت رہی ہے اس کی عکاسی کچھ اس طرح سے ہوتی ہے۔ لاہور کے ایک بڑے سکول کے پرنسپل مجھے ملے، نام میں مصلحتاً نہیں لکھوں گا اس سکول میں1400سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔پرنسپل صاحب خود بتاتے ہیں ہمارے سکول میں کوئی مالی نہیں ہے، کوئی بیلدار کام کرنے والا نہیں ہے ایک چوکیدار ہے جس سے دس کام لیتے ہیں۔ میں نے سوال کیا، صفائی کا نظام کیسے کرتے ہیں تو پرنسپل صاحب نے رنجیدہ ہوتے ہوئے بتایا ہمارے بڑے پلاٹ اور گراﺅنڈ موجود ہیں ہم پی ایچ اے کے ذمہ داران سے کہہ کر مالی کبھی کبھی منگوا لیتے ہیں جو ہمارے گراﺅنڈ ٹھیک کر جاتے ہیں باقی ان کو پانی اساتذہ طلبہ کی مدد سے خود دیتے ہیں۔ پرنسپل صاحب نے میری آنکھیں کھول دیں ہمارے اساتذہ صبح آ کر پہلے صفائی کرتے ہیں بچوں کو ساتھ لگا کر ڈسٹنگ کر لیتے ہیں ہمارے پاس کوئی صفائی کا نظام نہیں ہے۔ پرنسپل صاحب سے میں نے سوال کیا آپ کی لیب کیسی ہیں ان کا جواب تھا تمام لیب شاندار ہیں، مگر کام کرنے والا سٹاف نہیں ہے۔ انہوں نے ایک اور انکشاف کیا ہمارے 90فیصد اساتذہ امتحان لینے گئے ہوئے ہیں دس فیصد سے کم اساتذہ ہیں جن سے ہم سو فیصدد کام لینے پر مجبور ہیں۔ 365 دِنوں میں 300 دن امتحان ہوتے ہیں حکومت پرائیویٹ اداروں کے اساتذہ کو نہیں لیتی اس لئے سرکاری سکولز کے اساتذہ کی موجیں لگی ہوئی ہیں ہر سکول میں 40 فیصد سٹاف کم ہے جو 60فیصد ہے اس میں50 سے 55 فیصد گورنمنٹ ڈیوٹیوں پر ہوتے ہیں۔میں نے پرنسپل صاحب سے کہا سرکاری سکولوں سے ہونے والے کھلواڑ کا کون ذمہ دار ہے تو انہوں نے کہا ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔ کوئی بات نہیں کرتا سب فوٹو شوٹ پر لگے ہوئے ہئے ہیں اللہ ہی ہمارے نظام کو درست کر دے ورنہ ہم قیمتی سکول خود تباہ کر رہے ہیں۔