انور خان لودھی

تعلیم میں بھی پنجاب بڑا بھائی ہے تحریر: انور خان لودھی

پنجاب آبادی اور وسائل کے لحاظ سے دیگر صوبوں سے بڑا ہے اور بڑے بھائی پہ ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں جنہیں پنجاب نے ہمیشہ نبھا کے دکھایا۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں نے اپنے دروازے دیگر صوبوں کے سٹوڈنٹس کیلئے ہمیشہ کھلے رکھے ہیں اور حال ہی میں اپنے اس عزم کا اعادہ بھی کیا ہے جب وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سے بلوچستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء پر مشتمل وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں بلوچستان کے علاؤہ پختون خواہ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے طلباء بھی شامل تھے۔ بلوچستان اور دیگر صوبوں کے طلباء نے پنجاب کے تعلیمی اداروں کی فعالیت کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر طلباء نے وزیر تعلیم پنجاب سے تعلیمی نظام اور دیگر امور پر سوالات کرتے ہوئے سمسٹر ایکسچینج پروگرام شروع کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر رانا سکندر حیات نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی منظوری کی صورت میں آئندہ سال سے سمسٹر ایکسچینج پروگرام کے آغاز کا عندیہ دیا۔ بلوچستان، بختونخواہ، کشمیر اور گلگت کے بیشتر طلباء نے وزیر تعلیم سے پنجاب کی یونیورسٹیوں میں داخلے کی خواہش کا بھی اظہار کیا جس پر رانا سکندر حیات نے بلوچستان کے طلباء کو سکالرشپ پروگرام کے تحت پنجاب کی یونیورسٹیوں میں داخلے کا وعدہ کیا اور موقع پر ہی خواہشمند طلباء کے کوائف خود نوٹ کئے۔۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں 15000 سے زائد طلباء دیگر صوبوں سے زیر تعلیم ہیں۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ بلوچستان سے جذباتی لگاؤ ہے، فخر ہوگا کہ بلوچ طلباء پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گوگل ایجوکیشن پروگرام شروع کرنے کیلئے وزیر تعلیم بلوچستان سے رابطے میں ہیں اور گزشتہ چند ماہ کے دوران 7 مرتبہ دونوں وزراء کی آپس میں مشاورت ہو چکی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم نے ڈسٹنس لرننگ میں بھی بلوچستان کے طلباء کی معاونت کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور دیگر صوبوں کے طلباء پنجاب کی کسی بھی یونیورسٹی میں پڑھنا چاہیں، ان کے ساتھ حکومت پنجاب بھرپور تعاؤن کرے گی۔ انہوں نے بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت میں بھی دانش سکولوں کے جلد آغاز کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے 1900 طلباء پنجاب میں سکالرشپ پر زیر تعلیم ہیں۔ دوسری جانب دانش سکولوں میں بلوچستان کے بچوں کے 10 فیصد کوٹہ کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز بلوچستان اور دیگر صوبوں کے نوجوانوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ اسی لئے انہوں نے سکالرشپ، داخلوں کے کوٹے اور لیپ ٹاپ سکیم میں دوسرے صوبوں کے طلباء کو خصوصی طور پر شامل کیا ہے۔ اس موقع پر رانا سکندر حیات اور وزیر مواصلات صہیب برتھ نے وفد میں شامل تمام طلباء کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ایک ایک لیپ ٹاپ کا تحفہ بھی دیا۔ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، مگر آبادی کے وسیع جغرافیائی پھیلاؤ، دشوار گزار علاقوں، محدود تعلیمی سہولیات اور سماجی و قبائلی روایات کے باعث خصوصاً طالبات کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتِ بلوچستان نے باصلاحیت طالبات کو ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے وظائف اور بین الصوبائی تعلیمی تعاون کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ اس سلسلے میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اور حکومتِ بلوچستان کے محکمہ اسکول ایجوکیشن کے درمیان خواتین اساتذہ کے تعلیمی وظائف کے پروگرام کے تحت مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک نہایت اہم اور دور رس اقدام ہے، جو نہ صرف بلوچستان کی طالبات کے لیے نئی امید کی کرن ہے بلکہ قومی یکجہتی، خواتین کے بااختیار بنانے اور معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب ایک مضبوط قدم بھی ہے۔ بلوچستان کی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید خان درانی خود لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی تشریف لائیں اور اس اہم تقریب میں شرکت کی۔ ان کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتِ بلوچستان صوبے کی بچیوں کی تعلیم کو محض ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ اسی طرح لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کا انتخاب اس اعتماد کا مظہر ہے جو ملک بھر میں اس ادارے کی علمی ساکھ، معیاری تدریس اور خواتین کی تعلیم کے میدان میں خدمات پر کیا جاتا ہے۔ حکومتِ بلوچستان کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ اسی وژن کا تسلسل ہے، جس کے تحت دور دراز علاقوں کی طالبات کو معیاری تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، تدریسی مہارتوں اور قائدانہ صلاحیتوں سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے صوبے میں تعلیمی تبدیلی کی مؤثر سفیر بن سکیں۔ حکومتِ بلوچستان اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے درمیان یہ شراکت داری محض ایک مفاہمتی یادداشت نہیں بلکہ پاکستان کی بیٹیوں کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس جذبے اور تعاون کا سلسلہ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب بلوچستان کی تعلیم یافتہ خواتین نہ صرف اپنے صوبے بلکہ پورے ملک کی ترقی، خوشحالی اور علمی قیادت میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔ یہی حقیقی معنوں میں خواتین کو بااختیار بنانے اور ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد ہے